Missed Call




Missed Call
اس خموش نمبر پر
مسڈ کال کرتے ہو
پتھر وں سے کوشبو کا
تم سوال کرتے ہو
کیا خبر نہین تم کو
رابطے بڑھانے سے
فاصلے مٹانے سے
بے شمار قصوں کا
اعتبار حصوں کا
ربط ٹوٹ جاتا ہے
قہقہوں کے ساون میں
آنسوؤں کے دریا کا
ضبط ٹوٹ جاتا ہے
خامشی کے ہونٹوں پر
بین گنگناتے ہیں
وصل کے بسے گاؤں
زیر آب آتے ہیں
اور کسی سے ملنے کے
صرف خواب آتے ہیں
جو ہوا کی رتھ پہ ہوں
ان گئے سواروں کو
لوٹنا نہیں آتا
ربط کے اندھیروں میں
روح کی منڈیروں پر
درد کا گا آبیٹھے
پھر کہیں نہیں جاتا
آنکھ کے گلستاں میں
درد کا بسیرا ہو
روگ کا سویرا ہو
دل سے گنگ بچے کو
خواہشوں نے گھیرا ہو
پھر سوائے آنسو کے
اور کچھ نہیں بھاتا
سالس ٹوٹ جاتی ہے
اور غم نہیں جاتا
تم یہ جانتے بھی ہو
پھر ۔۔؟ کمال کرتے ہو !
جانے والی خوشبو کا
کیوں ملال کرتے ہو
اپنے ایک لمحے کو
ایک سال کرتے ہو
اس خموش نمبر پر
مسڈ کال کرتے ہو
احمد حماد ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں