مخمصہ




مخمصہ
اک طرف شہر ہے
اک طرف میرا دل
دونوں کی اپنی اپنی حکایا ت ہیں
اس کی ویرانی دیکھوں
کہ وحشت زدہ دل کے شکوے سنوں ؟
شہر میں کچھ مقامات ایسے بھی ہیں
جن کے ماضی نے تیرے حسیں قہقہے
دل لگا کر سنے
غم بھلا کر سنے
اب مگر ان کے اطراف میں چار سو
رقص کرتی ہیں بھیگی ہوئی سسکیاں
لمحہ در لمحہ میرے سبوتا ژکا استعارہ لئے
دیکھ دل کو ذرا
اپنی دھڑ کن بھلا کر ترے نام پر
کب سے بیٹھا ہے آنکھوں میں آکر مگر
تو نہین ٹوٹتا
اس کو سمجھاؤں کیسے، مین کیسے کہوں ؟
جاکہ آتا ہے سارا زمانہ سمے کے مضافات سے
اور جن سے محبت ہو، اکثر وہی لوگ آتے نہیں
درد سنتے نہیں، غم بٹاتے نہیں
جا کہ تنہائی تسکین دینے لگے، پھر بلکتے نہیں
صورت چوب نم خوردہ ریشہ بہ ریشہ۔۔ سلگتے نہیں
اک طرف شہر ہے
اک طرف میرا دل ۔۔۔!!
احمد حماد ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں