میں کیسے زندگی کرنے لگوں بنا سورج




میں کیسے زندگی کرنے لگوں بنا سورج
میں دن مزاج ہوں، میرا ہے سلسلہ سورج
گداز لمحوں کے پیڑوں میں رس رچانے کو
کہا تو چاند تھا میں نے مگر ملا سورج
کسی کی گرمئی خواہش پہ مسکراتا رہا
کسی کی سرد مزاجی پہ رو دیا سورج
انا پرست ہے، پگھلا نہ دے تجھے بھی کہیں
مرے چراغ کو اتنا نہ آزما سورج
پھر اس کے نام سے آنکھوں میں رات پھیل گئی
پھر ایک اشک کو میں نے بنا لیا سورج
بھلے بدن میں لہو بن کے پھیلتا جاتا
مرے ملال کو پھر بھی نہ جانتا سورج
بس ایک بار کہین بادلوں کا نام لیا
پھر اس کے بعد مرے بام پر رہا سورج
تمہارے بام پہ اترا تو درد چاند بنا
مرے مکان پہ پھیلا تو بن گیا سورج
بدن پہ ڈالے ہوئے چیتھڑے زمانوں کے
اک اور دن کی گلی سے گزر گیا سرفج
پلٹ بھی آ کہ ترے منتظر ہیں برسوں سے
گلاب، رابطہ ، سنسار ، دل ، ہوا ، سورج
نہ جانے سوچتا رہتا ہے سانحے کیا کیا
تمہارے سامنے آ کر ڈرا ڈرا سورج
احمد حماد ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں