سخن طرازو ! سماوار کائنات بنے




سخن طرازو ! سماوار کائنات بنے
فرید سا کوئی مصرع کہو تو بات بنے
کف جنوں کو ترستی تھی چاک پر مٹی
میں راکھ ہو گیا تب جا کے میرے ہات بنے
وفور سجدہ کو عالم نیا ہو یدا کر
کہ ایک عرصہ ہوا ہے زمیں کو گھات بنے
نمود گر نے امکاں میں روح پھونکی ہے
اب اس کی مرضی ہے پارہ بنے کہ پات بنے
بس ایک وصل کا لمحہ نہین بنا ورنہ
زمینیں سات بنیں، آسمان سات بنے
جو بام شرق پہ مغرب سے آ کے لہرائے
وہی ہیولے ہمارے تصورات بنے
لہو کے پر سے میں لکھنے لگا ہوں دل نامہ
کسی کی یاد پڑی ہے ادھر دوات بنے
احمد حماد ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں