وسو سے Chat کے




وسو سے Chat کے
آج چیٹ ونڈو میں
تیرے نام کے آگے
دائیں چوکھٹے اندر
ایک موہنی صورت
بجھ گئی ہے دھیرے سے
جو کہ روز آنکھوں میں
زندگی جگاتی تھی
اور اک نیا منظر
زرد شاہرا ہوں کا
(جو کہیں نہیں جاتیں )
خواہشوں کے مرنے پر
مسکرانے لگتا ہے
طنز کرتا ہے شاید
میرے خواب رکھنے پر
آج ثانیے کتنے
کرب میں گزرتے ہیں
وقت ہے کہ چلنے کا
نام ہی نہیں لیتا
آج تیرے میسج میں
دیر سے ابھر تے ہیں
دل کی بجھتی بھٹی میں
وسو سے سلگتے ہیں
آج اہتماما تو
gotta go نہ لکھے گا
آج dc ہونے پر
تو کبھی نہ لوٹے گا
تجھ کو بائے کہنے کو
آج جاگتا ہے جو
پھر کبھی نہ سوئے گا
اور آسماں جیسے
آج کھل کر روئے گا
احمد حماد ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں