تیرے پیچھے دل نے بھی




تیرے پیچھے دل نے بھی
دھڑکن سے غداری کی
سرد مزاجی میں ہمسر
تیرا کوچہ اور مری
خوں ! رونے دے شریانوں کو
شریانوں کے چاک نہ سی
اب کے گلگوں موسم میں
کیکر ا گلے گی دھرتی
کیمپس کے ہر کمرے میں
بعد ترے وحشت ناچی
موت ترے دیوانے کو
رفتہ رفتہ آئے گی
احمد حماد ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں