دلوں کی اور دھواں سا دکھائی دیتا ہے




دلوں کی اور دھواں سا دکھائی دیتا ہے
یہ شہر تو مجھے جلتا دکھائی دیتا ہے
پکارتی ہیں بھرے شہر کی گزرگاہیں
وہ روز شام کو تنہا دکھائی دیتا ہے
یہ لوگ ٹوٹی ہوئی کشتیوں میں سوتے ہیں
مرے مکان سے دریا دکھائی دیتا ہے
کہیں ملے وہ سر راہ تو لپٹ جائیں
بس اب تو ایک ہی رستہ دکھائی دیتا ہے
احمد مشتاق




اپنا تبصرہ بھیجیں