اک پھول میرے ساتھ تھا اک شمع میرے ساتھ تھی




اک پھول میرے ساتھ تھا اک شمع میرے ساتھ تھی
باہر خزاں کا زور تھا اندر اندھیری رات تھی
اک خامشی تھی تربتر دیوار مژ گاں سے ادھر
پہنچا ہوا پیغام تھا برسی ہوئی برسات تھی
سب پھول دروازوں میں تھے سب رنگ آوازوں میں تھے
اک شہر دیکھا تھا کبھی اس شہر کی کیا بات تھی
یہ ہیں نئے لوگوں کے گھر سچ ہے اب ان کو کیا خبر
دل بھی کسی کا نام تھا غم بھی کسی کی ذات تھی
احمد مشتاق




اپنا تبصرہ بھیجیں