ترے دیوانے ہر رنگ رہے ترے دھیان کی جوت جگائے ہوئے




ترے دیوانے ہر رنگ رہے ترے دھیان کی جوت جگائے ہوئے
کبھی نتھرے نتھرے کپڑوں میں کبھی انگ بھبھوت رمائے ہوئے
اس راہ سے چھپ چھپ کر گزری رت سبز سنہر ے پھولوں کی
جس راہ پہ تم کبھی نکلے تھے گھبرائے ہوئے شرمائے ہوئے
اب تک ہے وہی عالم دل کا وہی رنگ شفق وہی تیز ہوا
وہی سارا منظر جادو کا مرے نین سے نین ملائے ہوئے
ہم نے مشتاق یونہی کھولا یادوں کی کتا ب مقدس کو
کچھ کاغذ نکلے خستہ سے کچھ پھول ملے مرجھائے ہوئے
احمد مشتاق




اپنا تبصرہ بھیجیں