روح بدن کے خم و پیچ




روح بدن کے خم و پیچ
کتنا شفاف ہے بدن تیرا
کل جو تو میرے پاس سے گزری
میں نے دیکھا کہ تیرے چہرے پر
جھیل کا ساسکون چھایا ہے
اور ترے دل پہ جب نظر ڈالی
میں نے وہ حشر سا بپا دیکھا
جس طرح زلزلہ سا آیا ہے
احمد ندیم قاسمی
( کتاب مجموعہ قاسمی )




اپنا تبصرہ بھیجیں