کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا




کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
اس کی دولت ہے فقط ہے نقش کف پا تیرا
پورے قد سے جو کھڑا ہوں تو یہ ہے تیرا کرم
مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا
لوگ کہتے ہیں کہ سایہ ترے پیکر کا نہ تھا
میں تو کہتا ہوں جہاں بھر پہ ہے سایا تیرا
تجھ سے پہلے کا جو ماضی ہے ہزاروں کا سہی
اب جو تا حشر کا فردا ہے وہ تنہا تیرا
اب بھی ظلمات فروشوں کو گلہ ہے تجھ سے
رات باقی تھی کہ سورج نکل آیا تیرا
ایک بار اور بھی یثرب سے فلسطین میں آ
راستہ دیکھتی ہے مسجد اقصیٰ تیرا
احمد ندیم قاسمی
( کتاب مجموعہ قاسمی )




اپنا تبصرہ بھیجیں