جس راہ سے بھی گزر گئے ہم




جس راہ سے بھی گزر گئے ہم
ہر دل کو گداز کر گئے ہم
جلوے تھے کسی کے کار فرما
ہر نقش میں رنگ بھر گئے ہم
کیا جاننے، کیا تھا اس نظر میں
الجھے تو سنور سنور گئے ہم
ہر دل تھا اداسیوں کا معبد
ہر گام ٹھہر ٹھہر گئے ہم
امید وفا میں جینے والو
امید وفا میں مر گئے ہم
احمد راہیؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں