ہم نے کس طرح گزاری ہے، تمہیں کیا معلوم




ہم نے کس طرح گزاری ہے، تمہیں کیا معلوم
وہ جو روداد ہماری ہے، تمہیں کیا معلوم
ہمیں معلوم ہے، یہ پیار کی بازی ہم نے
کتنے دکھ درد سے ہاری ہے، تمہیں کیا معلوم
تم نے تو توڑ دیا عہد وفا اور یہاں
درد کا سلسلہ جاری ہے، تمہیں کیا معلوم
وقت کی قبر میں، الفت کا بھرم رکھنے کو
اپنی ہی لاش اتاری ہے، تمہیں کیا معلوم
دے کے نذرانہ جاں سر پھرے دیوانوں نے
زلف ایام سنواری ہے، تمہیں کیا معلوم
احمد راہیؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں