دل کے سنسان جزیروں کی خبر لائے گا




دل کے سنسان جزیروں کی خبر لائے گا
درد پہلو سے جدا ہو کے کہاں جائے گا
چاند کے پہلو میں دم سادھ کے روتی ہے کرن
آج تاروں کا فسوں خاک نظر آئے گا
راگ میں آگ دبی ہے غم محرومی کی
راکھ ہو کر بھی یہ شعلہ ہمیں سلگائے گا
وقت خاموش ہے روٹھے ہوئے یاروں کی طرح
کون لو دیتے ہوئے زخموں کو سہلائے گا
احمد راہیؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں