بات چھوٹی سی کبھی پھیل کے افسانہ بنے




بات چھوٹی سی کبھی پھیل کے افسانہ بنے
کوئی دیوانہ بنائے، کوئی دیونہ بنے
زندگی میں کبھی آتا ہے وہ نازک لمحہ
شمع خود شدت جذبات میں پروانہ بنے
اس سے بڑھ کر بھلا کیا اور قیامت ہو گی
جس کو اپنانے کی خواہش ہو وہ اپنا نہ بنے
حال دل کہتے ہوئے ان سے خیال آتا ہے
کہیں اظہار تمنا بھی تماشا نہ بنے
احمد راہیؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں