کوئی حسرت بھی نہیں کوئی تمنا بھی نہیں




کوئی حسرت بھی نہیں کوئی تمنا بھی نہیں
دل وہ آنسو جو کسی آنکھ سے ٹپکا بھی نہیں
آگے کچھ لوگ ہمیں دیکھ کے ہنس دیتے تھے
اب یہ عالم ہے، کوئی دیکھنے والا بھی نہیں
بادباں کھول کے بیٹھے ہیں سفینوں والے
پار اترنے کے لیے ہلکا سا جھونکا بھی نہیں
احمد راہیؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں