تم تو کہتے تھے بہار آئی تو لوٹ آؤں گا




تم تو کہتے تھے بہار آئی تو لوٹ آؤں گا
لوٹ آؤ مرے پردیسی، بہار آئی ہے
تیری یادوں نے مرے خوابوں کو مہکایا ہے
میرا ہر خواب ترا مہکایا ہوا سایا ہے
ہر تمنا مری سمٹی ہوئی انگڑائی ہے
لوٹ آؤ مرے پردیسی ، بہار آئی ہے
کبھی تنہائی میں جب تیرا خیال آتا ہے
آپ ہی آپ کبھی آنکھ بھی شرمائی ہے
لوٹ آؤ مرے پردیسی، بہار آئی ہے
احمد راہیؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں