اگرچہ خلد بریں کا جواب ہے دنیا




اگرچہ خلد بریں کا جواب ہے دنیا
مگر خدا کی قسم ایک خواب ہے دنیا
سحر پیام تبسم ہے، شام اذن سکوت
شگوفہ زار کا فانی شباب ہے دنیا
لرز رہی ہے فجا میں صدائے غم پرور
ترنمات فنا کا رباب ہے دنیا
جہاں کی عشرت فانی پہ اعتبار نہ کر
شب بہار کا مستانہ خواب ہے دنیا
یہاں کی شام ہے اک پردہ سیہ کاری
شراب عیش کے پیاسو ! سراب ہے دنیا !
قدم قدم پہ طلسمات نور و ظلمت ہیں
فریب خانہ شیب و شباب ہے دنیا
شکست دل کی حکایات حسرتوں کے بیاں
فسانہ ہائے الم کی کتاب ہے دنیا
جھکا نہ خاک در حسن پر جبین امید !
سنبھل سنبھل کہ یہاں بے حجاب ہے دنیا
ہجوم درد کی، انبوہ آرزو کی قسم
تواتر ستم بے حساب ہے دنیا
رہ خلوص میں احسان اس سے بچ کر چل
کہ ایک خضر ضلالت مآب ہے دنیا
احسان دانشؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں