افشائے راز




وہ عہد تم نے توڑ دیا جس پہ بیشمار
پچھلے پہر کے ڈوبتے تارے گواہ تھے
اب جو بھی کہہ رہے ہو بجا ہے درست ہے
ہم کج خیال و کج سخن و کج نگاہ تھے
با وصف احتیاط و بہ ایں تجربات دہر
محسوس ہو رہا ہے کہ گم کر دہ راہ تھے
لیکن ہے دل کو صبر ، کھلا ہے یہ جب سے راز
تم باعث گناہ نہیں تھے گناہ تھے !
احسان دانشؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں