ہمنشیں ! پوچھ نہ مجھ سے کہ محبت کیا ہے




ہمنشیں ! پوچھ نہ مجھ سے کہ محبت کیا ہے
اشک آنکھوں میں ابل آتے ہیں اس نام کے ساتھ
تجھ کو تشریح محبت کا پڑا ہے دورہ
پھر ہرا ہے مرا سر گردش ایام کے ساتھ
سن کہ مغموں میں ہے محلول یتیموں کی فغاں !
قہقہے گونج رہے ہیں یہاں کہرام کے ساتھ
ہرورش پاتی ہے دامان رفاقت میں ریا
اہل عرفاں کی بسر ہوتی ہے اصنام کے ساتھ
کوہ و صحرا میں بہت خوار لئے پھرتی ہے
کامیابی کی تمنا دل ناکام کے ساتھ
یاس آئینہ امید میں نقاش الم
پختہ کاری کا تعلق ہوس خام کے ساتھ
شب ہی کچھ نازکش پرتو کورشید نہیں
سلسلہ صبح دل افروز کا ہے شام کے ساتھ
ہے تونگر کے شبستا ں میں چراغان بہشت
وعدہ خلد بریں کشتہ آلام کے ساتھ
کون مشوق ہے، کیا عشق ہے، سودا کیا ہے ؟
میں تو اس فکر میں گم ہوں کہ یہ دنیا ہے !
احسان دانشؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں