گھنیری شاخوں کی تیرگی میں کلی کوئی مسکرا رہی ہے




گھنیری شاخوں کی تیرگی میں کلی کوئی مسکرا رہی ہے
کسی کے خاموش گھر میں فطرت چراغ نغمہ جلا رہی ہے
رخ حسیں پر بریدہ گیسو ادا سے کروٹ بدل رہے ہیں
جماہی لیتی ہوئی کلی پر سیاہ بھنورے مچل رہے ہیں
وفا ہے بیدار، روح شاداں، نظر میں شوخی مچل رہی ہے
سحر کے دامن میں سبز ٹہنی سفید کونپل اگل رہی ہے
دھرے ہیں سینے پہ ہاتھ دونوں یہ حفظ عفت کا جوش دیکھو
یہ جان دیکھو ، یہ عمر دیکھو، یہ عقل دیکھو، یہ ہوش دیکھو
احسان دانشؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں