شفق کے سرخ دریا میں نگاہیں تیر جاتی ہیں




شفق کے سرخ دریا میں نگاہیں تیر جاتی ہیں
کسی کے ہاتھ میں جب جام صہبا دیکھ لیتا ہوں
کچل دیتی ہے اس کی بے نیازی جب امیدوں کو
مین اس دنیا ہی میں انجام دنیا دیکھ لیتا ہوں
مرے آئینہ امروز کے صیقل کا کیا کہنا
کہ جس میں منعکس تصویر فردا دیکھ لیتا ہوں
جبیں میں بے ریا سجدوں کا طوفاں سنسناتا ہے
سر بزم طرب جب عجز مینا دیکھ لیتا ہوں
نقاب رنگ و بو میں چھٹپنے والے ! یہ بھی سوچا ہے
میں ہر ذرے کی پیشانی میں صحرا دیکھ لیتا ہوں
نگاہوں کو مری فرصت کہاں محفل شناسی کی
میں دل کے آئینے میں جانے کیا کیا دیکھ لیتا ہوں
تری محفل میں جا کر اور کچھ دیکھا نہیں جاتا
میں اپنی آنکھ سے اپنا تماشا دیکھ لیتا ہوں
نگاہوں میں وہ جلوے بھر دیے مشق تصور نے
اندھیری رات میں رقص تجلی دیکھ لیتا ہوں
مری ناکامیوں پر جب ستارے مسکراتے ہیں
میں اک موہوم سا خواب تمنا دیکھ لیتا ہوں
مجھے احسان وہ گہری نظر دی دینے والے نے
دل شبنم میں غلطاں روح دریا دیکھ لیتا ہوں
احسان دانشؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں