مری نگاہ کا پیغام بے صدا جو ہوا




مری نگاہ کا پیغام بے صدا جو ہوا
وہ میری بات سنے کیوں میں بے نوا جو ہوا
نظر، میں تیری نظر سے ملا نہیں سکتا
کہ مجھ میں تجھ میں زمانے کا فاصلہ جو ہوا
سواد شہر میں ملتے ہیں لوگ سنگ بدست
سودا شہر میں صحرا کو راستہ جو ہوا
کوئی بھی گزرے مرا حال پوچھتا ہے ضرور
غبار راہ طلب اپنا آشنا جو ہوا
اختر ہوشیار پوریؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں