کڑکتی دھوپ میں سارا جہان ہوتا تھا




کڑکتی دھوپ میں سارا جہان ہوتا تھا
گھٹا کے چھٹتے ہی کیا کیا گمان ہوتا تھا
وہ دن بھی کیا تھے دیے روزنوں میں جلتے تھے
اور اپنے سر پہ کھلا آسمان ہوتا تھا
یہ اور بات کہ سائے نے دستگیری کی
قدم قدم پہ کڑا امتحان ہوتا تھا
میں اس سے بات بھی کرتا تو کس طرح کرتا
کہ اک فرشتہ یہاں درمیان ہوتا تھا
میں جب بھی شہر سے نکلا تو راہ بھول گیا
پھر اس کے بعد ہواؤں کا دھیان ہوتا تھا
اختر ہوشیار پوریؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں