حرف کی آبرو قلم سے ہے




حرف کی آبرو قلم سے ہے
زندگی جیسے چشم نم سے ہے
بن کہے ہر سخن سمجھتا ہوں
میرا ہونا میرے عدم سے ہے
منزلیں اپنے آپ کچھ بھی نہیں
کارواں راستے کے دم سے ہے
اب کتابیں ٹٹولنا کیسا
لفظ تو اپنے ہی بھرم سے ہے
اختر ہوشیار پوریؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں