یا رب مرے خوابوں میں خیالوں کا اثر دے




یا رب مرے خوابوں میں خیالوں کا اثر دے
بارش سے جو خالی ہیں کٹورے انہیں بھر دے
میں بے سر و ساماں کہیں جا نہیں سکتا
مجھ بے سرو سامان کہیں جا نہیں سکتا
مجھ بے سر و سامان کو سامان سفر دے
دیوار کو رنگوں سے عجب تو نے نوازا
اب اس مرے کاشانے کو انوار سحر دے
ظلمت کدہ ذات میں محصور ہوں کب سے
اس تیرگی شب کو اجالوں کی خبر دے
اختر ہوشیار پوریؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں