وہ میرے قریب ہی کھڑی تھی




وہ میرے قریب ہی کھڑی تھی
اور میرے بدن میں بولتی تھی
میں خاکے میں رنگ بھر رہا تھا
وہ زینہ اتر کے جا چکی تھی
سب مجھ کو تلاش کر رہے تھے
مجھ کو اپنی مگر پڑی تھی
میں تو کہیں اور جا چکا تھا
وہ دستکیں پھر بھی دے رہی تھی
قرآں کے حروف بولتے تھے
کانوں میں اذان گونجتی تھی
اختر ہوشیار پوریؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں