زندگی تلخ ہے اظہار حقیقت کے لئے




زندگی تلخ ہے اظہار حقیقت کے لئے
میں نے داغوں کو چنا ہے شب فرقت کے لئے
ان کو دیکھا تو ستارے کی طرح ڈوب گیا
کتنا بے تاب تھا دل عرض محبت کے لئے
رات گزری تو سوا نیزے پہ سورج دیکھا
جیسے ہم جاگے تھے اس صبح قیامت کے لئے
مجھ کو تو اپنی نگاہوں پہ بھروسہ نہ رہا
تم ہی آئنہ اٹھاؤ مری حیرت کے لئے
اختر ہوشیار پوریؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں