زمانہ آج بھی اس طرح مجھ کو تکتا ہے




زمانہ آج بھی اس طرح مجھ کو تکتا ہے
کہ جیسے خار کسی آنکھ میں کھٹکتا ہے
ترے فراق میں پھر بھی سکون ملتا تھا
ترے حضور تو دل اور بھی دھڑکتا ہے
کہیں وہ درد نصیبوں کا آسرا تو نہیں
افق کے پار ستارہ سا اک چمکتا ہے
مٹا چکی ہیں جسے گردشیں ستاروں کی
وہ نقش اب بھی زمانہ ابھار سکتا ہے
اختر ہوشیار پوریؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں