وہ سن رہا تھا زمیں کا خروش، دزو کی چاپ




وہ سن رہا تھا زمیں کا خروش، دزو کی چاپ
وہ گن رہا تھا ستارے شجر تبر کے نشاں
وہ چن رہا تھا رسن، سوختہ سفال چراغ
جلا جو خیمہ ابر بہار، اس کا تھا
سمٹ رہا تھا وہ موتی سا اندرون صدف
کہ بزدلوں کے تصرف مین بحر و بر آئے
کہ پانیوں میں اترنے کی رسم جاتی رہی
لرز رہا تھا سر شاخ عدل اس کا گلاب
کہ ابرو باد سے تھی صحبت دم افعی
پریدہ صدق تھے اور تیز دھوپ کی مقراض
کہیں زباں کہیں اوراق گل کترتی تھی
اختر حسین جعفری
(کتاب – آئینہ خانہ)




اپنا تبصرہ بھیجیں