مرے بدن پہ ہے معزول درد کی خلعت




مرے بدن پہ ہے معزول درد کی خلعت
مری مژہ پہ غم مسترد کا اشک نگوں
قریب آکہ وہ مسند تجھے دکھاؤں میں
کہ جس کے گرد شب حیلہ جو کی زرد سپہ
مجھی سے میرے لہو کا حساب مانگتی ہے
سگان شام کہاں حبس ناروا میں ہے
خلاف کس کے ہے صبح عناد کا دعویٰ
ذرا ٹھہر کہ دم فیصلہ سوال بہت
جلا وطن سے شب ناسپاس پوچھے گی
اختر حسین جعفری
(کتاب – آئینہ خانہ)




اپنا تبصرہ بھیجیں