یہ صبح حشر بھی میری ہے پر سشیں بھی مری




یہ صبح حشر بھی میری ہے پر سشیں بھی مری
شفاعتیں بھی خود اپنے ہنر سے مانگتا ہوں
ٓاٹھا رہا ہوں زمیں سے دو نیم حرف کا چاند
دکھا رہا ہوں وہ انگشت معجزہ جس پر
کہیں ہے مہر ستارہ کہیں خط تنسیخ
چھپا رہا ہوں تہ سنگ استخوان صدا
چھپا رہا ہوں وہ مقتل جہاں پہ لفظوں نے
فراق حسن تمنا مین خود کسی کر لی
وہ لعبتیں بھی ہیں فرد حساب میں موجود
کہ جن کا زیور غم میں نے خود اتار لیا
سکوت چھین لیا ہے کہ خود کلام کروں
اختر حسین جعفری
(کتاب – آئینہ خانہ)




اپنا تبصرہ بھیجیں