اسی کے نام کڑی دوپہر میں جلتے بدن




اسی کے نام کڑی دوپہر میں جلتے بدن
اسی کی نذر بجھے حوصلوں کی مزدوری
اسی کی نذر قلم، حاشے، سیاق و سباق
وہ جس کے ذکر سے خالی بھرا ہوا اخبار
اسی کے نام یہ تعویذ نافرستادہ
جسے لحد مین اترتے ہوئے نہیں دیکھا
اسی کی نذر فرد رفتہ زمیں باغات
بچے ہوئے قفس عندلیب سے آنسو
آگے ہوئے غم تشنہ زبان میں کانٹے
اسی کی نذر رکی آبجو، تہی دریا
جہاں طیور کو آب وضو نہیں ملتا
اختر حسین جعفری
(کتاب – آئینہ خانہ)




اپنا تبصرہ بھیجیں