وال عدل تھا یا احتجاج تھا کیا تھا




سوال عدل تھا یا احتجاج تھا کیا تھا
ہجوم عام سے تھا مور ناتواں کا خطاب
فلک کے ساتھ ستارہ شناس تھے اس کے
زمین اپنے رسولوں کو ساتھ لائی تھی
ہوا کے جھنڈ میں مہتاب گوش بر آواز
سواد زخم خود افروز سوچتا جگنو
کتا ب کھولتا تھا اندمال لکھتا تھا
پڑا تھا خشک کہو کا اناج منہر پر
زمین جس کی وصیت وصول کرتی نہ تھی
طیور رزق نواہی قبول کرتے نہ تھے
سوال عدل تھا یا احتجاج تھا کیا تھا
اختر حسین جعفری
(کتاب – آئینہ خانہ)




اپنا تبصرہ بھیجیں