اک اور شور قیامت کہ بند قبر کھلے




اک اور شور قیامت کہ بند قبر کھلے
اک اور ضرب کہ تمثال دار آئنیہ
تمام عکس مکرر ترے رہا کر دے
اک اور ضرب کہ بود و نبود کی تقسیم
اسی فصیل اسی خشت ماسوا تک ہے
قدم اک اور کہ اس کاخ و کو میں روشن ہے
وہ ہفت رنگ ستارہ جو آسماں میں نہیں
ہمارے ساتھ غریب الدیار جس کے لیے
دنوں کی شاخ برہنہ شبوں کی زلف تہی
قدم اک اور کہ آگے وہ معرکہ ہے جہاں
صداقتوں کے مقابل صداقتیں ہوں گی
اختر حسین جعفری
(کتاب – آئینہ خانہ)




اپنا تبصرہ بھیجیں