سر نگاہ وہی عکس آئینہ خانہ




سر نگاہ وہی عکس آئینہ خانہ
وہی ہجوم مقید، وہی خط پرکار
وہی بناہ کا جنگل، وہی سگ مامور
خود اپنے آپ سرکتی فصیل ذات کی خشت
خود اپنے آپ قدم چھوڑتی زمیں فرار
وہی نگاہ وہی چاک حرف کی تفہیم
زمیں کا اولیں مکتوب بادلوں کے لیے
ازل سے تا بہ ابد تیرتے نجوم ، طیور
پروں سے جن کے افق تا افق دم پرواز
زمیں منتظر و کوہ بے ارادہ پر
دھنک کے رنگ میں گرد ممات گرتی ہے
اختر حسین جعفری
(کتاب – آئینہ خانہ)




اپنا تبصرہ بھیجیں