نہ بائے عجز میں زنجیر شوق در بدری




نہ بائے عجز میں زنجیر شوق در بدری
نہ انگلیوں مین سکت بوریا اٹھانے کی
در ثبات کہ دشت ممات ہے در پیش
فصیل ذات سے باہر قدم نہیں اٹھتا
ہے پیش و پس سپر انداختہ گروہ حلیف
گلیم پوش ارادے ، عصا بدست سوال
فسردہ درد، چراغان شام بے ترتیب
حریم حسن کی نا وا گزار اقلیمیں
بلاد عمر جنھیں پاؤں کرتے نہیں
اختر حسین جعفری
(کتاب – آئینہ خانہ)




اپنا تبصرہ بھیجیں