چلو ہم اپنی خطاؤں کا اعتراف کریں




چلو ہم اپنی خطاؤں کا اعتراف کریں
پھر اس کے بعد سبھی کی خطا معاف کریں
کبھی کبھی تو نئے زخم کا مزا چکھیں
کبھی کبھی تو روایت سے انحراف کریں
جو ان کے در پہ جبینیں جھکائے آتے ہیں
وہ پہلے اپنی جبینوں کی گرد صاف کریں
آل احمد سرور ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں