کیا لہو روئے تو آیا ہے بہاروں کا سلام




کیا لہو روئے تو آیا ہے بہاروں کا سلام
صرف خوابوں سے حقائق کو سنوارا نہ گیا
وہ بھی وقت آتا ہے ساقی بھی بدل جاتے ہیں
میکدے پر کبھی مستوں کا اجارا نہ گیا
آل احمد سرور ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں