نگاہیں منتظر تھیں، کب کرن پھوٹے سحر جاگے




نگاہیں منتظر تھیں، کب کرن پھوٹے سحر جاگے
مگر یہ رات تو کچھ اور کالی ہوتی جاتی ہے
مری تشنہ لبی میری صراحی میں چھلک آئی
وہ پیہم بھرتے جاتے ہیں، یہ خالی ہوتی جاتی ہے
کرن پڑتی ہے جو ں جوں شوخیوں کی ان نگاہوں میں
سرور اتنی ہی صورت بھولی بھالی ہوتی جاتی ہے
آل احمد سرور ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں