حساب




شغف نہیں تھا ذرا بھی مجھے پڑھانے سے
مگر وہ روز سر شام اس کا آجانا
کتاب لے کے مرے سامنے بہانے سے
کوئی تو سوچ تھی، جو سوچتی وہ رہتی تھی
جھکا کے سر کو مرے پاس آکے کہتی تھی
کئی سوال سمجھنے ہیں آپ سے میں نے !
نہ ہو کہ آپ مجھے لا جواب ہی کر دیں
مری نگاہ کو پامال خواب ہی کر دیں
حسین آنکھوں میں وہ آرزو کے ڈورے تھے
وہ اس کے گال تھے یا خون کے کٹورے تھے
پسینہ تھا کہ ٹپکتا تھا اس کے ماتھے سے
نگاہیں اشک حیا سے بھری بھری اس کی
وفور شرم سے وہ ہونٹ کپکپاتے ہوئے
قدم زمیں پہ جو دھرتی تو لڑکھڑاتے ہوئے
کتاب مجھ کو تھما کر وہ سامنے بیٹھی
تھمائی مجھ کو لبوں سے نکال کر پنسل
نہیں تھا فرق، کتاب اور اس کے چہرے میں
میں اس کو دیکھتا اور دیکھتا ہی رہ گیا تھا
وہ اس کا دست گلابی ورق پلتا ہوا
جو سوچتا ہوں تو دل سے جواب آتا ہے
اسے تو، مجھ سے زیادہ حساب آتا ہے
علی یاسر ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں