خود اپنے اشکوں کا سیلاب مار دیتا ہے




خود اپنے اشکوں کا سیلاب مار دیتا ہے
خیال فرقت احباب مار دیتا ہے
نکل تو آتا ہوں منجھدار سے مگر اکثر
مرا نصیب، کہ پایاب مار دیتا ہے
مجھے یہ ٹاٹ کی پوشاک ہی موافق ہے
نشاط ریشم و کمخواب مار دیتا ہے
ترے حضور پہنچ کر یہ انکشاف ہوا
ترا طریقہ آداب مار دیتا ہے
تجھے میں اس سے زیادہ نہیں سمجھتا ہوں
تو ایک دشت ہے، بے آب مار دیتا ہے
ہزار شکر کہ بے رخت و پاپیادہ ہوں
سنا ہے راہ میں اسباب مار دیتا ہے
جو جاگتا رہے، ڈستے ہیں رتجگے اس کو
جو سو گیا تو اسے خواب مار دیتا ہے
سبق یہ لینا تھا فرہاد سے علی یاسر
سواد عشق تو اعصاب مار دیتا ہے
علی یاسر ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں