خارزاروں میں بریشم کی قبا رکھ دی تھی




خارزاروں میں بریشم کی قبا رکھ دی تھی
جانے کیا سوچ کے فطرت میں وفا رکھ دی تھی
ایک پلڑے میں دو عالم کو دھرا تو کم تھا
ایک پلڑے میں تری ایک ادا رکھ دی تھی
نعمتیں بانٹنے والے کا تھا احسان عظیم
میرے حصے میں حسینوں کی ثنا رکھ دی تھی
سائل کا سہ دراز آیا، دعا ریز ہوا
شہ نے واپس اسی کا سے میں دعا رکھ دی تھی
تم ہی بتلاؤ کہ یاسر مری تقصیر ہے کیا
میں نے تو ایک طرف ساری انا رکھ دی تھی
علی یاسر ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں