مستقل درد کی پوشاک پہن کر آئے




مستقل درد کی پوشاک پہن کر آئے
کوچہ یار سے ہم خاک پہن کر آئے
اب یہ گستاخ نگاہوں سے شکایت کیسی
پیرہن آپ ہی بیباک پہن کر آئے
دل جو ٹکڑوں میں بٹا ہے تو عجب کیا اس میں
ہم لبادہ بھی تو صد چاک پہن کر آئے
تیرے کوچے میں تو بس پھول ہوا کرتے تھے
لوٹ کر ہم خس و خاشاک پہن کر آئے
ہم زمیں زادے ذرا شاد ہوئے تو یاسر
رنگ افسوس کا افلاک پہن کر آئے
علی یاسر ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں