کوئی اذن گناہ مانگتا ہے




کوئی اذن گناہ مانگتا ہے
آئنہ ھی پناہ مانگتا ہے
دار و شمشیر کیوں سجاتے ہو ؟
کیا کوئی سر کلاہ مانگتا ہے ؟
آگے والوں کو یہ نہیں احساس
پیچھے والا بھی راہ مانگتا ہے
جنگ کرنی ہے اور مجھ سے ہی
میرا دشمن سباہ مانگتا ہے
کھیلنے کے لئے مرا بچہ
اختر و مہر و ماہ مانگتا ہے
علی یاسر ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں