یہ دھرتی یہ امبر، کوئی سایہ ہے




یہ دھرتی یہ امبر، کوئی سایہ ہے
اک سائے کے اوپر کوئی سایہ ہے
چیخوں کی یہ کیسی ہے آواز اے دل !
شاید میرے اندر کوئی سایہ ہے
جلتا ہوں میں سورج کی ہمراہی میں
کب اس دھوپ سے بڑھ کر کوئی سایہ ہے
خلوت جلوت میں کتنا بھی چہکیں ہم
پھر بھی رہتا ہے ڈر، کوئی سایہ ہے
خوف مقفل گھر میں کرتا ہے گردش
دروازے سے باہر کوئی سایہ ہے
یاسر اس کو لوگ بگولہ کہتے ہیں
دھن میں مست قلندر کوئی سایہ ہے
علی یاسر ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں