ترک بادہ بھی نہیں کرسکتے




ترک بادہ بھی نہیں کرسکتے
ہم ارادہ بھی نہیں کر سکتے
اس کو دینا ہے تسلی بھی کوئی
اور وعدہ بھی نہیں کر سکتے
اے زمیں بوس فلک ہم تجھ کو
ایستادہ بھی نہیں کر سکتے
کم تو کیا کرتے فتور دل کو
ہم زیادہ بھی نہیں کر سکتے
استعاروں پہ بھی پابندی ہے
باد سادہ بھی نہیں کرسکتے
دامن دشت شناسائی علی
ہم کشادہ بھی نہیں کر سکتے
علی یاسر ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں