قریب مہر و مہ و نجم و کہکشاں کوئی ہے




قریب مہر و مہ و نجم و کہکشاں کوئی ہے
زمیں پہ رہتے ہوئے محو آسماں کوئی ہے
بھرے جہان میں رہتے ہوئے ترستے ہیں
کبھی کہیں کہ ہمارا بھی مہر باں کوئی ہے
کہ اب تو بار بدن بھی اٹھانا ہے مشکل
بتاؤ ہم سے زیادہ بھی ناتواں کوئی ہے
یہ ہم جو زرد سراپا پہن کے پھرتے ہیں
ہمارے دل میں بھی کاشانہ خزاں کوئی ہے
دیار خواب ترے راستے رہیں آباد
شکستہ حال ہے پھر بھی رواں دواں کوئی ہے
جگی میں ہم نے پرویا ہوا ہے تیر کا ہار
اس خوشی میں کہ افسردہ کماں کوئی ہے
عجب سراب بعید از بساط ہے یاسر
سر یقیں نہیں کوئی، پس گماں کوئی ہے
علی یاسر ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں