دل بیدار فاروقی ، دل بیدار کراری




دل بیدار فاروقی ، دل بیدار کراری
مس آدم کے حق میں کیمیا ہے دل کی بیداری
دل بیداری پیدا کر کہ خوا بیدہ ہے جب تک
نہ تیری ضرب ہے کاری ، نہ میری ضرب ہے کاری
مشام تیز سے ملتا ہے صحرا میں نشاں اس کا
ظن و تخمیں سے ہاتھ آتا نہیں آہوئے تا تاری
اس اندیشے سے ضبط آہ میں کرتا رہوں کب تک
کہ مغ زادے نہ لے جائیں تری قسمت کی چنگاری
خداوند یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں
مجھے تہذیب حاضر نے عطا کی ہے وہ آزادی
کہ ظاہر میں تو آزادی ہے ، باطن میں گرفتاری
تو اسے مو لائے یثرب ؐ آپ میری چادر سازی کر
مری دانش ہے افرنگی، امر ایماں ہے زناری
علامہ اقبال




اپنا تبصرہ بھیجیں